اماں عائشہ رضی اللہ عنہاکی نبی کریم ﷺسے شادی اور عمر پر اعتراضات اور اسکے جوابات


اماں عائشہ رضی اللہ عنہاکی نبی کریم ﷺسے شادی اور عمر پر اعتراضات اور اسکے جوابات:

‌دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں اس ہستی کے خلاف لکھی گئی جو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔مسلمانوں کے دلوں سے نبی کریمﷺ کی محبت کم ہو جائے اس لئے اسلام دشمن طاقتیں ہمیشہ شان رسالت پر حملہ کرتے ہیں اور طرح طرح کے بے جا اعتراضات کرتے ہیں۔ انہیں اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے نبی کریم ﷺ کی اما عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی۔ چونکہ نکاح کے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 6 سال اور رخصتی کے وقت 9 سال تھی اس لئے عیسائی، یہودی اور دوسری اسلام دشمن طاقتیں اس شادی ہر اعتراضات کرتے ہیں کی نبی کریم ﷺ نے ایک کم عمر لڑکی سے شادی کی جو زوجیت کے قابل نہیں تھی ۔ انکا اعتراض بالکل بے بنیاد ہے اور صرف اسلام دشمنی کی وجہ سے ہے۔
اس تحریر میں ہم انکے اعتراضات کا عام فہم زبان اور لہجہ میں جواب دینگے تاکہ عام لوگ بھی ان اعتراضات کا جواب سمجھ سکیں اور ضرورت پڑنے پر گستاخوں کو منہ توڑ جواب دے سکیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں شادی کی عمر کیا ہے؟
اللہ تعلی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے" اور یتیموں (کی سمجھداری) کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں"
(قرآن 4:6)
فقہا نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اسلام میں شادی کے لئے کوئی خاص عمر متعین( fix) نہیں ہے بلکہ جب وہ شادی کے قابل ہو جائے یعنی سن بلوغت کو پہنچ جائے تو اسکی شادی کی جا سکتی ہے۔اس کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ مختلف ممالک کا آب و ہوا مختلف ہوتا ہے۔ گرم ممالک میں لڑکے لڑکیاں جلد بالغ ہو جایا کرتے ہیں بنسبت سرد ممالک کے۔ مختلف ممالک میں مختلف عمر میں لڑکے لڑکیاں بالغ ہوتے ہیں۔اگر اسلام کوئی عمر متعین کر دیتا تو وہ غیر فطری ہوتا مثال کے طور پر 11 سال کی عمر میں نائجیریا میں ایک لڑکی قانونی طور پر بالغ ہو جاتی ہے اور شادی کر سکتی ہے مگر انڈیا میں وہ ایسا نہیں کر سکتی یہاں ابھی بالغ ہونے کے لئے 18 سال کی عمر درکار ہے۔
آج بھی اگر آپ دیکھیں تو بہت سے ممالک میں لڑکیاں بہت کم عمر میں بالغ ہو جایا کرتی ہیں اور انہیں قانونی حیثیت بھی حاصل ہے جیسے نائجیریا میں 11 سال، انگولا اور فلپائن میں 12 سال، جاپان میں 13 سال وغیرہ۔
اگر ہم انڈیا ہی کی بات کریں تو انڈین پینیل کوڈ (Indian Panel Code) 1860 کے مطابق لڑکیاں 10 سال کی عمر میں بالغ قرار پاتی تھیں جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔ 1891 کے مطابق 12 سال، 1925 کے مطابق 14 سال، 1940 کے مطابق 16 سال اور 2013 کے مطابق 18 سال جو ابھی بھی قائم ہے۔ اگر ہم اور قدیم دور میں جائیں اور ہندو کتابوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کے شادیاں اور بھی کم عمر میں ہوتی تھیں۔ منو سمرتی جو کہ ہندؤں کے یہاں قانون کے کتاب کی حیثیت رکھتی ہے اس میں لکھا ہے کہ " 30 سال کے مرد کو 12 سال کی لڑکی اور 24 سال کے مرد کو 8 سال کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنی چاہئے "
(منو سمرتی باب 9 ،شلوک 94)
اسی طرح ہندؤں کی کتاب وشنو پرانا میں لکھا ہے کہ "تم ایسی کنواری لڑکیوں سے شادی کرو جس کی عمر تم سے ایک تہائ کم ہو۔
(وشنو پرانا کتاب 3، باب 10،صفحہ 299)
مہابھارت میں لکھا ہے کہ "ایک 30 سال کے مرد کو 10 سال کی لڑکی اور 21 سال کے مرد کو 7سال کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنی چاہئے"
(مہابھار ت، پرب 44، صفحہ 18)
شادیوں کا یہ رواج حالیہ دنوں تک انڈیا میں قائم تھا جیسا کہ اوپر گزرا کہ 1860 تک 10 سال کی لڑکیاں بالغ قرار پاتی تھیں بلکہ آج بھی دیہات وغیرہ میں بہت ہی کم عمر میں لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہیں۔
آج بھی نائجیریا میں 11 سال کی لڑکی قانونی طور پر بالغ ہو جاتی ہے۔ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زرا غور کریں کہ آج سے 1400 سال پہلے عرب کے گرم خطے میں 9 سال کی عمر میں ہوئ اس شادی پر اعتراض کرنا کیا صحیح ہے؟
اما عائشہ رضی اللہ عنہا خود اس حدیث کو روایت کرتی ہیں کہ 6 سال کی عمر میں نکاح ہوا اور 9 سال کی عمر میں رخصتی۔
( بخاری 4840، مسلم 1422)
آج سے 1400 سال پہلے عرب کے گرم خطے میں عائشہ رضی اللہ عنہا 9 سال کی عمر میں بالکل بالغ ہو چکی تھیں۔آپ کی والدہ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺭﻭﻣﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻭ ﻗﺮﺍﺋﻦ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎﯾﺎ۔
سارے شک و شبہات کو دور کرتے ہوئے اما عائشہ رضی اللہ عنہا خود ارشاد فرماتی ہیں کہ
" لڑکی جب نو برس کی ہو جائے تو وہ عورت ہے۔"
(ترمزی حدیث 1109)
اس کے بعد تو اعتراضات کے سارے دروازے خود بہ خود بند ہو جاتے ہیں کہ اما عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود فیصلہ کر دیا کہ 9 برس کی عمر میں عرب کی اس گرم آب و ہوا میں لڑکیاں عورت ہو جایا کرتی تھیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امت کی ماں بنے یہ اللہ کا حکم تھا۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ رضی اللہ عنہا ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﻦ ﺭﺍﺕ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺭﯾﺸﻤﯽ ﭨﮑﮍﮮ ﻣﯿﮟ ﻻﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﮨﭩﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺗﮭﯿﮟ،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ‏( ﭘﻮﺭﺍ ‏) ﻓﺮﻣﺎﺩﮮ ﮔﺎ
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ و مسلم‏)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسلامی ماحول میں آنکھ کھولا۔ انکی تربیت بھی اسلامی ماحول میں ہوئ۔ وہ کافی ذہین تھیں۔ان سے 2210 مرفوعاً احادیث روایت ہوئ جو ابو ہریرە رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔عورتوں کے مسائل کے حوالے سے بیشتر روایات ان سے ملتی ہیں جو کہ امت مسلمہ پر احسان عظیم ہے۔ 9 سال یہ نبی کریم ﷺ کے نکاح میں رہیں۔ جب یہ 18 سال کی ہوئ تو حضورﷺ کا وصال ہو گیا۔ اس کے بعد 46 سال تک علم و حکمت کے موتی بکھیرتی رہیں اور دنیائے اسلام نے ان کے علم اور نبی کریم ﷺ کی قرابت کی وجہ سے ان سے بہت افادیت حاصل کی۔
اگر اسلام دشمنی اور تعصب کا عینک اتار کر دیکھا جائے تو یہ بات بلکل ثابت ہو جاتی ہے کہ اما عائشہ رضی اللہ عنہا کی جب نبی کریم ﷺ سے شادی ہوئی تو وہ ایک عورت تھیں اور یہ کہ اس شادی میں کوئی برائی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے 1200 سالوں تک کہیں سے کوئی اعتراض نہیں ہوا اب جا کر کچھ سو دو سالوں سے اعتراضات ہونے لگے۔ مغرب کی تقلید کرتے ہوئے کچھ ہندو حضرات بھی اس شادی پر اعتراض کرتے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب سیتا کی شادی شری رام سے ہوئی تھی تو اس وقت انکی عمر کیا تھی؟
بالمیکی رامائن کے ممطابق سیتا کی عمر صرف 6 سال تھی جب انکی شادی شری رام سے ہوئ۔ تو آپ اس شادی پر اعتراض کیوں نہیں کرتے؟ آپ کے منو سمرتی، وشنو پرانا اور مہا بھارت میں لکھا ہے کہ اپنی عمر کی ایک تہائ کم عمر کی لڑکی سے شادی کرو۔ یعنی آج اگر کوئی ان کتابوں پر عمل کرتے ہوئے شادی کرے تو 21 سال کے لڑکے کو 7 سال کی لڑکی سے شادی کرنی ہوگی۔ کیا آپ کبھی اس پر اعتراض کرتے ہیں؟
امید ہے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے متعلق جو بھی شک و شبہات ہیں وہ دور ہو جائنگے۔(ان شاءاللہ)
خاکسار-شاہد اختر

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat Ameer Muawiya RadiAllahoAnh ki shan mein Huzur Ghaus e Paak RadiAllahoAnh ka faisla:

Was Prophet Muhammad SalAllho Alaihe Wasallam really a pedophile?

There is no compulsion in religion(Islam)