محمد ﷺ کی متعدد شادیوں پر اعتراضات اور اسکے جوابات

 



محمد ﷺ کی متعدد شادیوں پر اعتراضات اور اسکے جوابات:


محسن انسانیت رحمت دو عالم پیغمبر محمد ﷺ روئے زمین پر سب سے افضل و اعلیٰ انسان بنا کر بھیجے گئے۔ جب دنیا تہذیب و تمدن کو بھلا بیٹھی تھی اس وقت کریم آقا ﷺ نے انسان کو بہتر زندگی جینے کا شعور سکھایا۔انکا اخلاق اور اعلی سیرت نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ ایک امریکی فلکی طبیعات(Astrophysicist) اور مصنف (Author) نے 1978 میں ایک کتاب لکھی
The 100-A Ranking of the Most Influential Persons in history
اور اس کتاب میں دنیائے تاریخ میں اخلاقی با اثر لوگوں کی لسٹ میں محمد ﷺ کو سب سے اول مقام سے نوازا۔

مگر افسوس کہ وہیں دوسری طرف دشمن اسلام نبی کریم ﷺ کے خلاف سازش کے تحت جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلاتے رہے۔قومی عصبیت اور مزہبی تعصب کی وجہ سے ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ سیرت کو داغدار کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ان لوگوں نے کثرت ازدواج پر بے جا اعتراضات کئے۔ جہاں مغربی ملکوں میں ویلیم میور (William Mayor) اور کیرن آرم اسٹرانگ (Karen Armstrong) جیسوں نے رسول کریم ﷺ کی ذات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا وہیں ہند میں بھی آریا سماج والوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور 1920 میں پنڈت ایم -اے چموپتی (M.A Chamupati) نے رنگیلا رسول نامی کتاب لکھ کر حضورﷺ کی ذات اقدس پر بہتان تراشی کی ناپاک کوشش کی۔ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ پر شہوت پرستی اور خواہش نفسانی کے غلبہ کا بیہودہ الزام لگایا(معاذاللہ) -

متعدد نکاح کرنے کا مطلب اگر صرف شہوت پرستی اور خواہش نفسانی کا غلبہ ہونا لیا جائے گا تو یہ الزام صرف نبی کریم ﷺ تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ حضرت سلیمان، حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب، حضرت داؤد علیہم السلام جو کہ ایسائیوں اور یہودیوں کے لئے بھی مقدس ہستی ہیں ان تک بھی الزام جائے گا- انہوں نے بھی متعدد شادیاں کیں جس کا ذکر بائیبل میں بھی موجود ہے۔
بائیبل کے مطابق حضرت سلیمان علیہ سلام کی 1000 بیویاں تھیں۔
(سلاطین 1st King باب 11 آیت 3-1)

اسی طرح ابراہیم علیہ سلام کی 3 بیویاں تھیں۔
(پیدائش Genesis باب 25 آیت 1)
(پیدائش Genesis باب 16 آیت 3)

داؤد علیہ سلام کی 16 بیویوں کا ذکر ملتا ہے-
(سموئیل Samuel باب 3 آیت 5-2)
(سموئیل Samuel باب 20 آیت 3)

یعقوب علیہ سلام کی بھی 4 بیویاں تھیں۔
(پیدائش Genesis باب 29 آیت 30-20)

اگر ہندؤں کی بات کریں تو خود انکے بھگوان اور مقدس ہستیوں نے متعدد شادیاں کیں۔ہندؤں کے ایک مشہور بھگوان ہیں شری کرشن جی انہوں نے کوئی 200-100 نہیں بلکہ ہزاروں شادیاں کیں۔ جی ہاں انکی 16108 بیویاں تھیں۔
(وشنو پرانا باب 19، صفحہ 582)

اسی طرح شری رام جی کے والد راجا دشرتھ کے بارے میں مشہور ہے کہ انکی 3 بیویاں تھیں مگر اس کے علاوہ انکی 350 اور بیویوں کا ذکر ملتا ہے۔
(بالمیکی رامائن، ایودھیا کھنڈ، باب 34 شلوک 6)

میں ان منفی رویہ رکھنے والے عیسائیوں، یہودیوں اور ہندؤں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم ان ہستیوں پر اعتراضات کیوں نہیں کرتے؟ کیوں تمہارے قلم کا زور صرف محمد ﷺ کے خلاف چلتا ہے؟ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر محمد ﷺ پر تمہارا اعتراض محض قومی عصبیت اور مذہبی تعصب کی وجہ سے ہے۔

مرد اگر ایک سے زائد شادیاں کرے تو اسے Polygamy کہتے ہیں۔ ایک بات ذہن نشین رہے کہ اسلام نے اسکی شروعات نہیں کی بلکہ یہ رواج شروع سے چلا آ رہا ہے۔ اسلام نے صرف اس رواج پر عمل کیا۔ اسلام سے پہلے شادیوں کی کوئی قید نہیں تھی جو جتنی چاہے شادیاں کر سکتا تھا مگر اسلام نے اسے 4 تک محدود کیا۔ اسلام میں بیک وقت چار شادیوں کی اجازت ہے مگر شرائط کے ساتھ ۔ 4 شادیوں کی اجازت کیوں ہے اسکے پیچھے کیا حکمت ہے اس پر الگ سے کبھی لکھنے کی کوشش کرونگا۔ اب اپنے مضمون کی طرف واپس آتے ہیں۔

شادی کے لحاظ سے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو 4 مرحلے میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ولادت سے لیکر 24 سال تک کا وقفہ جس میں آپ
ﷺ نے کوئی شادی نہیں کی۔ 25 سال کی عمر میں آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو پہلے سے بیوہ اور آپ ﷺ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں۔ 25 سال سے لیکر 55 سال کے دوسرے مرحلے میں آپ ﷺ کی زندگی میں بیک وقت ایک ہی زوجہ تھیں۔ 55 سے 60 سال کے تیسرے اور مختصر مرحلے میں آپ ﷺ نے مختلف وجوہات کی بنا پر متعدد شادیاں کیں۔ 60 سے 63 سال کے چوتھے مرحلے میں آپ ﷺ نے کوئی شادی نہیں کی۔

نبی کریم ﷺ کی متعدد شادیوں کے پیچھے کئی وجوہات تھے۔ عرب کا رواج تھا کے اگر کسی قبیلہ یا خاندان کے ساتھ تعلقات ہموار کرنا ہو تو انکے یہاں شادیاں کی جاتی تھی۔نبی کریم ﷺ نے مختلف قبیلوں اور خاندانوں کے ساتھ تعلقات کو ہموار کرنے اور ان تک اسلام کو پہنچانے کے لئے انکے یہاں شادیاں کیں۔ دوسری طرف کفار کے ساتھ جنگ میں کئی صحابہ کے شہید ہو جانے کی وجہ سے عورتیں بیوہ ہونے لگیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کرکے صحابہ کو اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کے بیواؤں کے ساتھ شادیاں کرو۔

اگر آپ ﷺ کی متعدد شادیاں (العیاذ باللہ) شہوت اور جنسی جذبے کی تسکین کے لئے ہوتیں تو جب قریش کے سرداروں نے آپ کو آپ کے پسند کی عرب کی کسی بھی خوبصورت ترین خاتون سے نکاح کی پیشکش کی تو آپ نے اسے کیوں ٹھکرادیا؟آپ عرب کے ایک خوب رو حسین نوجوان تھے اگر چاہتے تو قریش کی پیشکش کو قبول کر لیتے اور عیش کرتے مگر آپ ﷺ نے روتے ہوئے فرمایا کہ چچا جان ! خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں تو بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا۔

ان حقائق و واقعات کو جاننے کے بعد کوئی بھی اہل حق و انصاف یہ طئے کر سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی متعدد شادیاں معاذاللہ شہوت پرستی اور خواہش نفسانی کے غلبہ کے وجہ سے نہیں تھی ورنہ آپ کی پہلی شادی کو چھوڑ کر بقیہ تمام شادیاں 50 سال کی عمر کے بعد ہوئی جس میں بیوہ اور عمر رسیدہ عورتیں بھی شامل ہیںﺟﻮ ﻓﻄﺮﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺭﻏﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﺘﯽ تھیں۔ﻏﺮﺽ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺾ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺣﮑﻤﺘﯿﮟ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﺗﮭﯿﮟ۔

خاکسار-شاہد اختر

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat Ameer Muawiya RadiAllahoAnh ki shan mein Huzur Ghaus e Paak RadiAllahoAnh ka faisla:

Was Prophet Muhammad SalAllho Alaihe Wasallam really a pedophile?

There is no compulsion in religion(Islam)