کیا اسلام ایک ظالم مذہب ہے جو قربانی کا حکم دیتا ہے؟ کیا قربانی اور گوشت خوری کا تصور صرف اسلام میں پایا جاتا ہے؟


 


کیا اسلام ایک ظالم مذہب ہے جو قربانی کا حکم دیتا ہے؟ کیا قربانی اور گوشت خوری کا تصور صرف اسلام میں پایا جاتا ہے؟

اللہ نے دنیا میں جاندار اور غیر جاندار دونوں چیزیں پیدہ کیں۔انہیں میں سے انسانوں اور جانوروں کے لئے خوراک بھی پیدہ کئے۔ سمندر میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہیں ہالانکہ دونوں جاندار ہیں۔ جنگل میں شیر، چیتا وغیرہ دوسرے جانوروں جیسے ہرن، خرگوش وغیرہ کو کھاتے ہیں وہی انکا خوراک ہے اور دونوں جاندار ہیں۔ اسی طرح اللہ نے انسانوں کے لئے بھی جاندار کو خوراک کے تور پر پیدہ کیا اور کچھ جانوروں کو انسان کے لئے حلال کیا جیسے بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ، بیل وغیرہ۔ یہ دنیاوی نظام ہے۔ بغیر جیو ہتھیا(جاندار کا قتل) کئے انسان زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔ جب آپ سانس لیتے ہیں تو کئی جاندار جراثیم کا قتل کرتے ہیں۔ جب آپ پانی پیتے ہیں تو بھی کئی جاندار کا قتل کرتے ہیں گویا بنا جاندار کا قتل کئے کوئی زندہ نہیں رہ سکتا۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جانور نہیں کھانا چاہئے بلکہ صرف ساگ سبزی کھانی چاہئے مگر آج سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پیڑ پودوں میں بھی جان ہوتی ہے انہیں بھی درد کا احساس ہوتا ہے وہ بھی چیختے چلاتے ہیں مگر انسان انہیں سن نہیں سکتا کیونکہ انسان کے سننے کی طاقت محدود ہے۔ وہ ایک محدود آواز (20 سے 20 ہزار frequency تک) ہی سن سکتا ہے اس سے کم یا زیادہ نہیں سن سکتا۔
دنیا میں %90- %80 لوگ وہ ہیں جو گوشت کھاتے ہیں-ایک اندازے کے مطابق KKFC، McDonalds, اور Burger­ جیسی کمپنیوں کے زریعے 10 لاکھ جانور روزانہ قتل کئے جاتے ہیں۔ایسا کرنے والے دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں جو پیسہ کمانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ اس کمپنی کے صارفین دنیا بھر میں پھیلے ہوئے خصوصاً مغربی ممالک میں۔ ان صارفین میں بیشتر وہ لوگ ہیں جو خود تو سال بھر گوشت کھاتے ہیں مگر جب عیدالاضحی کا وقت آتا ہے تو انہیں اچانک سے جانوروں کے حقوق یاد آ جاتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ذہر افشانی شروع کر دیتے ہیں۔یہ صرف قومی عصبیت اور مذہبی تعصب کی بنا پر ہے۔
مسلمان قربانی کیوں کرتے ہیں کیا اللہ کو جانور کے گوشت یا خون کی ضرورت ہے؟
اللہ پاک اور بے نیاز ہے اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔نہ اسے قربانی کے جانور کا گوشت چاہئے نہ خون۔ اللہ تعالی قرآن میں خود ارشاد فرماتا ہے۔
"اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے ۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دیدو۔"
(سورہ الحج آیت 37)
معلوم ہوا اللہ تک نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون۔ اگر کچھ پہنچتا ہے تو وہ ہے مسلمانوں کا تقوی اور اسکی پرہیز گاری۔
قربانی کرنے کا حکم اللہ نے قرآن میں یوں دیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے۔
"تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
(سورہ الکوثر ۔ آیت 2)
قربانی دراصل ابراہیم علیہ سلام کی یادگار ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ اللہ نے ابراہیم علیہ سلام کو انکی محبت کو آزمانے کے لئے سب سے عزیز چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ سلام کی قربانی کرنے کا فیصلہ کیا مگر ٹھیک قربانی کے وقت اللہ کے حکم سے اسماعیل علیہ سلام کی جگہ ایک جانور ذبح ہو گیا۔اللہ تعلی کو یہ ادا بہت پسند آئ۔مسلمان اسی یادگار کو منانے کے لئے ہر سال عیدالاضحی کی 10، 11 اور 12 تاریخ کو جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔
کیا قربانی اور جانور کے ذبح کرنے کا تصور صرف اسلام میں ہے؟
جب ہم دوسرے بڑے مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انکے یہاں بھی قربانی کا تصور ہے اور انکی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔مغربی ممالک میں عیسائی اور یہودی اسلام پر تو اعتراض کرتے ہیں مگر خود اپنی کتابوں کو مطالعہ نہیں کرتے۔
بائبل میں ہے۔
"اور تم خطا کی قربانی کے لئے ایک بکرا اور سلامتی کے ذبیحہ کے لئے دو یکسالہ نر برے چڑھانا۔ "
(احبار Leviticus باب 23، آیت 19)
اور خداوند کے حضور اپنا چڑھاوا چڑھائے یعنی سوختنی قربانی کے لیے ایک بے عیب یکسالہ نر برہ اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بے عیب ماد ہ برہ اور سلامتی کی قربانی کے لیے ایک بے عیب مینڈھا ۔
(گنتی Numbers باب 6، آیت 14)
اور تُوتخصِیصی مینڈھے کو لے کر اُسکے گوشت کو کِسی پاک جگہ میں اُبالنا۔
(خروج Exodus باب 29، آیت 31)
کیا اس کے بعد بھی عیسائی مسلمانوں کی قربانی پر اعتراض کرینگے؟
کچھ ہندو حضرات بھی عیدالاضحی آتے ہی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔انکے یہاں بھی بلی(قربانی)،جانور ذبح اور گوشت خوری کا تصور موجود ہے۔ انکی کتابیں بھی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔کچھ حوالے میں یہاں پیش کرتا ہوں۔
منو سمرتی جو ہندؤں کے یہاں قانون کے کتاب کی حیثیت رکھتا ہے اس میں لکھا ہے۔
" براہمن پرندے اور جانور کو قربانی کے لئے ذبح کر سکتے ہیں "
(منو سمرتی باب 5، شلوک 22)
آتماؤں اور بھگوان کو چڑاهوا چڑاھنے کے بعد اگر کوئی گوشت کھاتا ہے تو کوئی گناہ نہیں کرتا چاہے اس نے (گوشت) خریدے ہوں یا جانور کو خود ذبح کیا ہو یا کسی نے اسے تحفے میں دئے ہوں۔
(منو سمرتی ، باب 5 شلوک 32)
مگر ریتی رواج کو ماننے والا وہ شخص اگر گوشت کھانے سے انکار کر دے تو اکیس جنم کے بعد وہ جانور بن کر پیدا ہوگا۔
(منو سمرتی باب 5 شلوک 35)
بھگوان نے خود جانوروں کو قربان ہونے کے لئے پیدہ کئے ہیں۔ قربانی کا مقصد دنیا کی بھلائی ہے۔قربانی کے لئے ذبح کرنا عام ذبح(جیسا) نہیں۔
(منو سمرتی باب 5 شلوک 39)
گوشت کھانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
(منو سمرتی باب 5 شلوک 56)
رگ وید میں ہے
"لڑکی کی شادی کے موقع پر بیل ذبح کئے جاتے ہیں۔ "
(رگ وید، کتاب 10، ہیم 85، شلوک 13)
وشستھ دھرم ستر میں ہے۔
مگر ایک زاہد جسے آتما و بھگوان کے لئے قربانی کے موقع پر کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ گوشت کھانے سے انکار کرے تو وہ قربان کئے گئے جانور کے جسم کے بال کے برابر سال جہنم میں رہے گا۔
(وشستھ دھرم ستر، باب 11، شلوک 34)
ہندؤں کے یہاں آج بھی مندروں میں جانوروں کی بلی چڑھائی جاتی ہے۔BBC کی رپورٹ کے مطابق نیپال میں گدھیمائ (Gadhimai) ایک ہندؤں کا تہوار ہوتا ہے جس میں 2 لاکھ جانور کی بلی چڑھائی جاتی ہے جس میں بڑے جانور بھینس وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یوٹیوب پر اسکے کئی ویڈیوز موجود ہیں۔
امید ہے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی انصاف اور حق پسند عیدالاضحی کے موقع پر ہونے والے جانوروں کی قربانی پر اعتراض نہیں کرے گا۔
خاکسار:شاہد اختر
✍

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat Ameer Muawiya RadiAllahoAnh ki shan mein Huzur Ghaus e Paak RadiAllahoAnh ka faisla:

Was Prophet Muhammad SalAllho Alaihe Wasallam really a pedophile?

There is no compulsion in religion(Islam)