علمائے اہل سنت پر "تکفیری" ہونے کا الزام اور اس کا جواب:
علماء اہل سنت (بریلوی) پر کچھ اپنے اور کچھ غیروں کے زریعہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ لوگ بات بات پر کفر کا فتوہ لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔(معاذ اللہ) ایسا کہہ کر یہ بھولے بھالے سنی مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں مسلک اعلحضرت سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس بابت کچھ لکھا جائے اور خاص کر علماء اہل سنت کا موقف واضح کیا جائے تاکہ عام لوگ بھی یہ جان جائیں کہ علماء اہل سنت تکفیری نہیں ہیں اور یہ مسلمانوں کی تکفیر نہیں کرتے سوائے انکی جنہوں نے اللہ اور اسکے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں شدید گستاخی کرکے کافر ہوئے۔ چند گنے چنے فرد پر جو علمائے اہلسنت کفر کا فتوہ لگاتے ہیں وہ اپنی گستاخی کی وجہ سے کافر ہوئے نا کہ انہیں کسی سنی عالم نے کافر بنایا؟
علمائے اہل سنت کا موقف بلکل صاف ہے، علامہ یاسین اختر مصباحی صاحب لکھتے ہیں " یہ نکتہ یہاں ذہن نشیں رہے کہ دیوبندی و غیرمقلد حضرات کو بلا التزام کفر کے محض ان کی مخصوص جماعت کا ایک جز اور فرد ہونے کی بنیاد پر تکفیر نہیں کی جا سکتی۔ ہاں! ایسی جماعتوں کے افراد کی تکفیر واجب ہے جن کے کل اور مجموعہ پر حکم تکفیر ہو جیسے قادیانی و بہائ وغیرہ۔"
(اہل قبلہ کی تکفیر۔ ص 5)
لیکن کچھ حضرات بھولے بھالے مسلمانوں کو یہ کہہ کر بھڑکاتے ہیں کہ سنی اپنے سوا کسی اور کو مسلمان سمجھتے ہی نہیں(معاذ اللہ)۔
علمائے اہل سنت کا موقف بلکل صاف ہے، علامہ یاسین اختر مصباحی صاحب لکھتے ہیں " یہ نکتہ یہاں ذہن نشیں رہے کہ دیوبندی و غیرمقلد حضرات کو بلا التزام کفر کے محض ان کی مخصوص جماعت کا ایک جز اور فرد ہونے کی بنیاد پر تکفیر نہیں کی جا سکتی۔ ہاں! ایسی جماعتوں کے افراد کی تکفیر واجب ہے جن کے کل اور مجموعہ پر حکم تکفیر ہو جیسے قادیانی و بہائ وغیرہ۔"
(اہل قبلہ کی تکفیر۔ ص 5)
لیکن کچھ حضرات بھولے بھالے مسلمانوں کو یہ کہہ کر بھڑکاتے ہیں کہ سنی اپنے سوا کسی اور کو مسلمان سمجھتے ہی نہیں(معاذ اللہ)۔
یہ فتنہ اعلحضرت امام اہل سنت علیہ رحمہ کے زمانے سے ہی جاری ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں
"ناچار عوام مسلمین کو بھڑکانے اور دن دہاڑے ان پر اندھیری ڈالنے کو یہ چال چلتے ہیں کہ علماء اہل سنت کے فتوی تکفیر کا کیا اعتبار ؟یہ لوگ ذرا ذرا سی بات پر کافر کہہ دیتے ہہیں۔ ان کی مشین میں ہمیشہ کفر ہی کے فتاو'ی چھپا کرتے ہیں۔ اسمعیل دہلوی کو کافر کہہ دیا ۔ مولوی اسحق صاحب کو کہہ دیا ۔ مولوی عبدالحئ صاحب کو کہہ دیا پھر جن کی حیا اور بڑھی ہوتی ہے وہ اتنا اور ملا دیتے ہیں کہ معاذ اللہ حضرت شاہ عبدالعزیز صابب کو کہہ دیا ۔ شاہ ولی اللہ صاحب کو کہہ دیا ۔ حاجی امداد اللہ صاحب کو کہہ دیا ۔ مولانا شاہ فضل رحمن صاحب کو کہہ دیا۔ پھر جو پورے ہی حد حیا سے گزر گئے ہیں کہ عیاز باللہ عیاز باللہ حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمت اللہ علیہ کو کہہ دیا۔
غرض ! جسے جسکا زیادہ معتقد پایا اس کے سامنے اسی کا نام لے لیا کہ انہوں نے اسے کافر کہ دیا۔"
(تمہید ایمان،صفحہ 44۔ 46 از امام احمد رضا بریلوی رحمت اللہ علیہ)
اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد یہ صاف ہو گیا کہ شروع سے ہی علماء اہلسنت کے خلاف یہ پروپگینڈہ کیا گیا کہ یہ ہر خاص و عام کی تکفیر کرتے رہتے ہیں۔علمائے اہل سنت بھی اس غلط پروپگنڈہ کا رد کرتے آئے ہیں۔ چنانچہ علامہ احمد سعید کاظمی صاحب لکھتے ہیں۔
"ناچار عوام مسلمین کو بھڑکانے اور دن دہاڑے ان پر اندھیری ڈالنے کو یہ چال چلتے ہیں کہ علماء اہل سنت کے فتوی تکفیر کا کیا اعتبار ؟یہ لوگ ذرا ذرا سی بات پر کافر کہہ دیتے ہہیں۔ ان کی مشین میں ہمیشہ کفر ہی کے فتاو'ی چھپا کرتے ہیں۔ اسمعیل دہلوی کو کافر کہہ دیا ۔ مولوی اسحق صاحب کو کہہ دیا ۔ مولوی عبدالحئ صاحب کو کہہ دیا پھر جن کی حیا اور بڑھی ہوتی ہے وہ اتنا اور ملا دیتے ہیں کہ معاذ اللہ حضرت شاہ عبدالعزیز صابب کو کہہ دیا ۔ شاہ ولی اللہ صاحب کو کہہ دیا ۔ حاجی امداد اللہ صاحب کو کہہ دیا ۔ مولانا شاہ فضل رحمن صاحب کو کہہ دیا۔ پھر جو پورے ہی حد حیا سے گزر گئے ہیں کہ عیاز باللہ عیاز باللہ حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمت اللہ علیہ کو کہہ دیا۔
غرض ! جسے جسکا زیادہ معتقد پایا اس کے سامنے اسی کا نام لے لیا کہ انہوں نے اسے کافر کہ دیا۔"
(تمہید ایمان،صفحہ 44۔ 46 از امام احمد رضا بریلوی رحمت اللہ علیہ)
اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد یہ صاف ہو گیا کہ شروع سے ہی علماء اہلسنت کے خلاف یہ پروپگینڈہ کیا گیا کہ یہ ہر خاص و عام کی تکفیر کرتے رہتے ہیں۔علمائے اہل سنت بھی اس غلط پروپگنڈہ کا رد کرتے آئے ہیں۔ چنانچہ علامہ احمد سعید کاظمی صاحب لکھتے ہیں۔
"مسلہ تکفیر میں ہمارا مسلک ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جو شخص بھی کلمہ کفر بول کر اپنے قول یا فعل سے التزام کفر کرےگا ۔ہم اسکی تکفیر میں تعامل نہیں کرنگے۔ خواہ دیوبندی ہو یا بریلوی،لیگی ہو یا کانگریسی،نیچری ہو یا ندوی،اس سلسلہ میں اپنے پرائے کا امتیاز کرنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک لیگی نے کلمہ کفر بولا تو ساری لیگ معاذ اللہ کافر ہو گئ۔ یا ایک ندوی نے التزام کفر کیا تو معاذ اللہ سارے ندوی مرتد ہو گئے۔ ہم تو بعض دیوبندیوں کی کفری عبارات کی بنا پر ہر ساکن دیوبند کو بھی کافر نہیں کہتے۔
ہم اور ہمارے اکابر نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ہم کسی دیوبند یا لکھنو والے کو کافر نہیں کہتے۔ ہمارے نزدیک صرف وہی کافر ہے جنہوں نے معاذ اللہ ،اللہ تبارک و تعالی اور اسکے رسول اور محبوبان ایزدی کی شان میں گستاخیاں کیں اور باوجود تنبہیہ شدید کے اپنی گستاخیوں سے توبہ نہیں کی۔ نیز وہ لوگ نو انکی گستاخیوں سے مطلع ہوکر اور انکے صریح مفہوم کو جانکر ان گستاخیوں کو حق سمجھتے ہیں۔ اور گستاخوں کو مومن،اہل حق،اپنا مقتدی اور اپنا پیشوا مانتے ہیں -اور بس!
ان کے علاوہ ہم نے کسی مدعئ اسلام کی تکفیر نہیں کی۔ ایسے لوگ جن کی ہم نے تکفیر کی ہے اگر ٹٹولا جائے تو وہ بہت قلیل ہیں اور محدود۔ ان کے علاوہ نا کوئ دیوبند کا رہنے والا کافر ہے نا بریلی کا،نہ لیگی نا ندوی- ہم سب مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔"
(الحق المبین-صفہ 24-25 از علامہ احمد سعید کاظمی)
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک لیگی نے کلمہ کفر بولا تو ساری لیگ معاذ اللہ کافر ہو گئ۔ یا ایک ندوی نے التزام کفر کیا تو معاذ اللہ سارے ندوی مرتد ہو گئے۔ ہم تو بعض دیوبندیوں کی کفری عبارات کی بنا پر ہر ساکن دیوبند کو بھی کافر نہیں کہتے۔
ہم اور ہمارے اکابر نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ہم کسی دیوبند یا لکھنو والے کو کافر نہیں کہتے۔ ہمارے نزدیک صرف وہی کافر ہے جنہوں نے معاذ اللہ ،اللہ تبارک و تعالی اور اسکے رسول اور محبوبان ایزدی کی شان میں گستاخیاں کیں اور باوجود تنبہیہ شدید کے اپنی گستاخیوں سے توبہ نہیں کی۔ نیز وہ لوگ نو انکی گستاخیوں سے مطلع ہوکر اور انکے صریح مفہوم کو جانکر ان گستاخیوں کو حق سمجھتے ہیں۔ اور گستاخوں کو مومن،اہل حق،اپنا مقتدی اور اپنا پیشوا مانتے ہیں -اور بس!
ان کے علاوہ ہم نے کسی مدعئ اسلام کی تکفیر نہیں کی۔ ایسے لوگ جن کی ہم نے تکفیر کی ہے اگر ٹٹولا جائے تو وہ بہت قلیل ہیں اور محدود۔ ان کے علاوہ نا کوئ دیوبند کا رہنے والا کافر ہے نا بریلی کا،نہ لیگی نا ندوی- ہم سب مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔"
(الحق المبین-صفہ 24-25 از علامہ احمد سعید کاظمی)
شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی صدر شعبہ افتاء الجامعتہ الا شرفیہ مبارک پور لکھتے ہیں۔
"عوام کا عرف مدار نہیں۔ حکم کا دارومدار حقیقی معانی پر ہے۔ اس لئے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو ،لوگ بھی اسکو دیوبندی کہتے ہوں ،وہ ان چارو علماء دیوبند کو اپنا مقتدی و پیشوا مانتا ہو حتی' کہ اہل سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو ،مگر ان چاروں علماء کی مزکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اسکا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہو یا اسکی نماز جنازہ پڑھنی کفر ہو۔ واللہ تعالی' علم۔
(معارف شارح بخاری ،صفحہ 914 رضا اکیڈمی ممبئ )
"عوام کا عرف مدار نہیں۔ حکم کا دارومدار حقیقی معانی پر ہے۔ اس لئے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو ،لوگ بھی اسکو دیوبندی کہتے ہوں ،وہ ان چارو علماء دیوبند کو اپنا مقتدی و پیشوا مانتا ہو حتی' کہ اہل سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو ،مگر ان چاروں علماء کی مزکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اسکا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہو یا اسکی نماز جنازہ پڑھنی کفر ہو۔ واللہ تعالی' علم۔
(معارف شارح بخاری ،صفحہ 914 رضا اکیڈمی ممبئ )
ان اکابریں اور علمائے اہل سنت کا موقف پڑھنے کہ بعد یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ کچھ تعاصب پسند لوگ عوام اہل سنت کو بھڑکانے کہ لئے اور انہیں مسلک اعلحضرت سے جو دور کرنے کہ لئے اس غلط پروپگنڈہ کو پھیلا رہے ہہیں۔ عوام کو چاہئے کہ وہ کسی بہکاوے میں نہ آئیں۔ اگر کوئ مسلہ در پیش ہو یا کوئ بات سمجھ نہ آئے تو کسی سنی عالم سے مل کر بات کو سمجھ لیں۔ اللہ کریم ہمیں اس فتنے کے دور میں ثابت قدم رکھے اور مسلک حق،مسلک اہل سنت،مسلک الحضرت پر قائم و دائم رکھےساتھ ہی نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والا بنائے۔(آمین بجاہ سیدالمرسلین)
خاکسار۔ شاہد اختر
Comments
Post a Comment